۹>
01:1-7 .- >> ھ>.ج[ج ہکم ا --0808۵ا0قق071ق0قا .70۱ا
21ت
بی بی زیت کے لفظ الد کو اس سورہکانام قرار دماگیاے۔
زا نزول:
اںگ ۴ ریغ اتلافدے۔ ابوحیان نے اھر الیط بیس دعوئ یکیا ےک اکر ایل عم سے
نز دریک بہ مد ے۔ یی بن امم الد اعدکی یق تفم میس کک ہی ںککہ مہ می سرت سے جو ینہ ٹیس نازل
ہوئی۔ مخلاف اس کے الماوردگ یسک ہی کہ اکر اٹل عم کے زد یک یہی سے او می بات امام سبث شی نے
انان میں گھی٤ے۔ ابین مر دو اع حا خء بین الز ہناور حنرت وائڑے ہہ قول نف لکما ےکہ مہ
سور وہ میں نازل ہوگی نشی سورت کے مضعون پر مو رکرنے سے بھی کی مھسوس ہما ےکمہ ان سکومکہ بی
یں نازل ہو نا چاہے خھاء ججی اک ہم آکے وا حک می گے۔
موضو اور مضمون:
ا س کا موضو مع لوگو ںکو قرا نکی قرو قمت اور ابحبیت سے آگا دکر ناے۔ ق رن می کی تر تیب میں اسے
ہو رو علق کىے بعد رھنے سے خودیہ ظاہرہو تا ےکہ جم سکاب پاک کے نزو لکا آغماز سور 6 عل کی اقال
اچ آیات سے ہواتھاءأسی کے متعلق وس سورہ میں لوگو ںکو بتا گیا ےک د ہکس تیر ساز رات ٹیس نازل
ہوئی ےءکیی یل الققد راب سے اور ا سکانزو لکیا معن رکھتاے۔
سب سے پپیلہ اس میس اللد تھا لی نے فرما یا ےک پھم نے اسے ناز لکیا ہے۔ ٹف ىیہ مجر ا کی اپتی تصنیف
ٹیس ہے بللہ لس کے ناز لکرنے وانے چم ہیں۔
اس کے بعد فرما پاکہ اس کانزول ہماری طرف سے شب در بی ہو اسے ۔ شب در کے دو میتی ہیں ء اور دوٹوں
تی یہاں مقصود ہیں۔ ایک ب کہ یہ دورات ہے جس میں تققیروں کے پیل ہکر دپے جات ہیںہیابالطای دج یہ
111بفّ ہہک ,'' ۰ی مرک .س۳
٦ ےی یہمہ۔مہممممم فؤ|اٗ ا >9 ہے مط..م-ۓ۔ۓذصقص170 قص01.ا۰0قء)ص0_ٰذظضص۳._۸7.٣ ۳ 717ا
کوئی معمولی رات عام رائوں شی نویس ہے ہبہ بی آعتوں کے بنانے اور پگاڑن ےکی رات ہے۔ اس میس اس
کنا بکانزول شس ای فکتا بکاغزول نہیں ے بللہ یہ دہکام سے جو نہ صرف تق ایی ء نہ صرف عحرب بللہ دنا
کی تید بد لک رکھ دے گا۔ بی بات سور٤ دخان میں بھی فر ماگ یگئی۔ (ملا خیط ہو تیم الق رن٠ جلد ارم
سور دغا نکاد یپاجہ اود حاشیہ 3)دوسرے مجنا مہ ہی یک ىہ بڑکی قد رو منزات اور حلمت وش رف رکے والی
رات ےء اور آگے ا لکی تش رت م ہک یکا ےکہ بن راد مھیٹوں سے زیادہمہترے۔ اس سے ک ارک ہکوگو امن
کیاگمیا ےک تم ایق نادانی سے مم مکی ین کی ہو کی و سکنا بکو اپنے لیے ایک محیوبت مد رے ہو اور
کو س رہ ہپ کہم ہکیابلا پمپ نازل ہو کی سے ء عال کہ جس را تکوڑس کے نزو لکا فیصملہ صاد رک یاگیاء ہاج خر
ورک تکی رات تج یکہ بھی انسانی جار نے کے راد مویٹوں میس بھی انسا نکی بھلائی کے لیے وہکام نیس ہو تھا
جھ اس رات می کر دیاگیا۔ یہ بات کنیا سک د٤ دخان ہک آیت 3 میس ایک دوسرے ط ریہ سے با نک یگئی
ہے او راس سورد کے د یباچ می ہم ا لکی و اح اکر گے ہیں۔
آخ یش بتایاگیا کہ اس را تکو ف رشن ادد جب کی این رب کے افن سے ہ ر عم نےکر نانزل ہو تے ہیں
( صے سور٤ دخان *آیت مہ ر4 یں اتکی مکہاکیاہے) اور و شمام سے کم کک مر اسر سعلا مت یی رات
ہوتی ےلین اس می سکسی ش کاو خل نی ہو جا ہکیوککہ الد تعالی کے تزام نیلے الخ ھلائی کے لیے ہو تے
ہیںءان می سکوئی بر ائیمقصود نی ہو تی تن یکہ اگ رکسی قو مکوتباءکرن ےکا فیصل بھی ہو اے نوخ ر کے لیے
برا خر کر تے۔
سم امو الژحنن الرٌحِم
رکو۶
أَُ۔
ہہ ےو 2 ےھ ھی کے و 3 سس ۔ 2 >ُ ےو طے >ُ ےو ٰ2
ِا اَنولْلهُ لَمْلَةِ الْقَذرِق و مَااذْلىكَ حا لَيْنَة الْقَذرِق لَمْلَةً الْقذْر عَیْدُهِن
کا 71 ۲ ۔٤>و2 8 ۲ ص کے َ2 بے ٌَ سارں ر5 2 بی 2 ڈ 2 تفّٔ :
الف ہر8 تنژل العلي ة3 الوم فِيْھَا بن رنہ من کل ار لئ حقی
س 21 2
ہےَْ ث۔ 2
١ رکوء
ابد کے نام سے جور مان در جیھے۔
جم نے وس( ق رن )کو شب قعدر میں :از لکیاے۔ اور ت مکی جا کہ شب قد رکیا سے ؟ شب قدر ہار
میٹوں سے زیادہ بجر ے۔ فرش اورڑوں كَ یش اپنے رت کے افن سے ہ ر عم ل ےک رتزتے
ی۔ شوورات سر اص رسلا متی سے ط لوج ٹچ جک سے
ةة8,ی۹٘گ۳٘۹٘۹٘٘پپپ٣٣٣٣١٣١٣١ ۸0و۰
سورۃالقدرحاشیہ ٹمبر: 1ھ
اص الفاظ ہیں :اش ضف جم نے اس سکوناز لکیا ہے “لیکن یروس کےککہ پیل ق رآ نکاکوگی ذکر ہوء
اشمار ہق مرآن بح یکی رف سے اس ل کہ ”ناز لکنا خو دجن دا پر دلالل تک ما ےک مراد ق من ے۔
اور ق ران ید مس اس ام رک بکشزت ماش موجودہی ںکہ اگر سیا کلام یااندانز بیان سے ش یب رکا م رشع خود
ظاہر ہور باہو تو شحی رای حالت ٹیں بھی استتعا لک بی جائی سے ج بکمہ اس کے مرش کا ذکر پپیلہ یا بعد شیں
ہیں ہک یاگیاہو(ت رج کے لے ملاحظہ ہو تفم الق نہ جلرخٹئم ء جم حاشیہ 9)
یہاں فرما گیا ےکہ ہم نے ق رآ نکو شب ققدر میں ناز لکیاےء اور سورولقرو یں ارشاد ہ۶ اے:مَْْرزُ
رتضات ال از یہ لزا :”رمضان وہ مہید سے جس می قرآن نز لک یاگیا۔ “'(البقرہ
5) اس سے معلوم ہو اکہ وو رات نجس میس مکی م رتبہ خد اکا فرشنۃ مار ح امیس می خظم کے پاس وی
ل ےک آیا ھا ء دہ ماور مضما نکی ایک رات تی ۔ تا کو یہاں شب قد کہاگ یاسے اور سورہدخمان ٹںش
7 کو مبارک رات فرایاگیاے :نَا اَنْرَلْلهُ ليلد مْلوَكَقہ” بھم نے اسے اسیک ب کت دا ی رات مل
از لکیاے۔“(آیت 3)
اس رات میں ق ران ناز لکر نے کے دو مطلب ہو کے ہیں : ایک مب کہ اس رات پورا ق رآن حائل وگی
فرشمتوں کے حو ال کر دماگیاء اور پچ رواقعات اور حالات کے مطاب و ہافو 23 سال کے دوران میں جج ریل
اللہ تعالی کے عم سے ا کی آزیات اور سور میں رسول ایل حم پر نازل کرت رسے۔ بہ مطلب این
یا نے ہیا نکیاہے۔ل(ائین جج یرہ این انف رہ امن ای حاتحم٤ حا ا ء این مر دویہء تلاٹی )٢دوس رامطلب بہ ے
کہ ق رن کے نزو لکی این الس رات سے ہو گی۔ بی امام شج یکا قول ےہ اکر چہ ان سے بھی دوس را قول ودی
منقول ے جو امن ع پا کا او ہگزراے۔(ائن جم یر بہرحال دونوں صمورفوں بی بات الیک نید ہتی ے
کر صول الل سا 4 ق رن کے نزو ل کا سلملہ اىی را تکوش رو ہو ااور کی رات 1 ڈسؤں موروعلق
٦ن٦٣٠٣٣٠ہہںة؛؛ٴ۸۰۰/"ًْو۰
کی انل ال با آیات ناز لک یکیِں۔ تا ہم یہ بات ایق مہ الیک حقیقت ےک ق رآ نکی آیات اور سور
الد تعالیأسی وفت تصنیف نہیں فرمام تراجب رسول الل خُ اور آپ تک کی دعوستں اسلائ کسی
واقعہ یا معاملہ بیس بد ابی تکی ضرورت یل اتی تشھیء بل ہکانا کی تغلبق سے بھی پیل ازل میس اللہ تعالیٰ
کے پاں ز ین پر فو انسالیکی پی ال ء اس میں انی کی بعفتء اناپ ناز لک جانے وال یکنا بوںء اور تام
ایا کے بعر خر میں مم ملظ کومبتوت فرمانے اور آپ می پر ق ران ناز لکرن ےکا پورا نصوبہ موجود
ھا شب نر میں صرف کام ہو اکہ اس منصوہبے کے آخری جصے پر عملدرآ بد شروں ہ ھگیا۔ اس وفقت
اگ را :این دی ۶اذ کرد ماگیاہ و وکوٹی قائل جب اھ میں ے۔
قر رک معن اض مفس رین نے تق کے لیے ہیں شی می ددرات سے جس می الد تال نیہ کے فیل نافز
کرنے کے لیے فرشتوں کے بر دک دب"اتھا۔ ا کی مائی سور 1غا نکی مہ آبی تک سے : فِيْهَا يْفَق
۳ ار حیم جع ناس رات میں ہر معامل ہکا یمائنہ فیصلہ صاد رک دیاجااے۔ “(آیت 4) مخلاف ال
کےامام ہر کت ہی سک قعدر کے صینی خظمت و شرف کے ہیں ء مننی دہ بڑی لمت والی رات ے۔ ال
مین کی ماحیر کی سور کے ان الفاظط سے ہو یی ےک ”شب قدر ار مھیٹوں سے زیادہکہترے۔“
اب رہایہ عوا کہم ہکون سی رات شی فو اس می اتا اختلاف ہوا ےکہ قریب قریب 40 ملف اقوال
اس کے بارے میں تے ہیں۔ لیکن علائے ام تکی بڑکی اکخریت یہ رائۓ تی ےککہ در مضا نکی آخری
دس تار ہو میں سےکوکی ایک طاق رات شب قد رے اور الن یش بھی زیادو را وگو لک راۓ بی ےکلہ
دوستا تینسومیں رات ہے۔ اس معاملہ میں جو معجمر احادیٹ منقول ہو ٹی ہیں ء امیس ہم ذیل بی در حکھرتے
یں:
10,-06:0ة0ة0ة0ة111101 1 ۹ ۰ئ ھ۹
٭" خطرت الو ہریرہ کی ردایت ےکلہ رسول للع نے لان الققدر کے بارے میں رمایا:وہ
تا تعسو پا شخیسویں رات ہے (الو داد طیا یم کیاروایت صحخرت الو ہر روب سے کہ وہ
رمضا نکی خیرات ے۔(مند امر)
٠ خی رن ای ےد تی رکف فی دن ےمان کہا اور
اتششان ہک یاککہ ددستا یسوی رات ہے۔( ا مسلمء اید دو دہ تر نکی ءزسا کی ء این نان )
٭ منرت ابوڈ سے اس کے بارے میں دریافن تکیامگمیا فو اغہوں ن ےکہاکہ حطرت عر۱ء رت
خزیف در اصاب رسول اوغا سے بہت سے ا وگو ںکواس بی سک کی نک نہ تھاہکہ وور مضا نکی
تا یسوی رات ہے۔(ابن ال یش
٭ حضرت نبادڈئن صاص تک روایٹ بس ےکہ رسول خأافهظا نے فرمایاکہ شب قدد رما نکی آخ ری
آخری۔(مترھ)
٭ حفرت عبد الڈر بن عپاس کے ہی ںکہ رسول خظ نے فرای:ا سے ر مضا نکی آخرىی دس راتوں میں
علاش روہ ج ب کہ مہینہ شخح ہونے میس 9 دن بائی ہوں ءیا مات دن بات ءیا پاچ دن باقی۔
(ہخاری )اکر ال صلم نے ا سکا مطلب یہ لیاے کہ ور کے ام ادطای رالوں ے 0
٭ حفرت اب وم رکی روایت ہ ےک 9 دن بائی ول یاسات دن یا پا دن ء اشن دن یا آخ ری رات
۔مرادے ً کہ الع مار کول میں للت اق رط للرریززیءنتان)
٭ حخرت عائک کی روایت ےک رسول مك نے فرمایاکہ شب قد کور مضا نکی آخ کی دس راوں
یس سے طاقی رات بی ملا ش کرو( بفارگی ء مسلم ٣ اممہء تر زی )۔ حضرت عائ اور رت عبد اللہ
زع جح کیہ شی روایت سے رح ول سا نے مان لیست ر مضا نکی آخ کی دس رانوں مل اعتکاف
فرایاے۔
٠٦ ,رپ_۲ؤپپژپپ۔--.ممھ.: 9 ہ ہز م.-_٭شقشضظ۶2ق_۳۶ں۳. ۳ق ۴ا _۳٣7 07ا
اس معاٹے میں جو روایات حظرت معاو عم رت ارنع عرل رت ارکن ع با لو یرہ بز رگوں سے مم ری
ہیں :ا نکی بنا بر عاہاۓ سل فکی بڑی تحعد ادستا کمیسوسسں رمضمان ب یکو شب قدر مچھتی ےا ٦ھ7ھ7
لین اللہ اور اس کے رسول مکی طرف سے اس لیے نکش لک اکا ےک شب قد کی فضیات سے یل
ےک لوق بین لو کات زیادہ زان غیایت بین جات او سی الیک رات 2 اہ گرتین۔
یہاں یہ سال پیید اہو ما ےک متس وفت کل مصتظمہ میں رات ہو لی ےس وقت د میا سے الیک بہت بڑے
جے میں دن ہو تا ہےء اس لے ان علاقتوں کے لوگ و بھی شب قد کو بای نیل ستے۔ ال ککاجو اب ہہ سے
کیہ ع رف ز بان میل اکشررا تکا نظ دن اور رات کے مو سے کے لیے ولا جانا ہے۔ اس لیے ر مضا نکی ان
تار بوں میں سے جو ار بن بھی دبا ےی ححضہ یس ہوء اس کے دنع سے چیہ والی رات وہاں کے لیے
شب قدر ہو تق ے۔
سورڈالقدرحاشیہ تمیر: 2ھ
مفسرین نے پالمعوم اس کے میا مہ ان کے ہی ں کی ان را تکا فل تر ہنرار مویٹوں کے مل خر سے
ای جن موقر غار2 یں می ہین کتگین۔ بات اپقا جلّہ درست ے اور ر ول
الخ نے اس رات کے عم لکی بڑی فضیلت بیا نکی ہے۔ چنا شی بخاری ومسلم میں ححضرت ابو ہیر کی
روایت ےکہ حور ضا نے فرمایا: صن کائر لَيْلَةَ الَقَذْ اناو اخْتسَابَاعُفمَلَدُمَا تْقَأمَمِن دَنْْه ”۶
نی شب قدر یٹس ایمان کے سماتجھ اور الیل کے اج رکی اط رمحباوت کے لی ےہکنٹرارباء انس کے قمام پک ےکنا
مجاف ہو گے “ اور مسنر ام میں حظرت عیادڈن صامت کیارودایت ے کہ حور حم نے ف مایا
شب قددر ما نکیا ری دس رائوں بی ہے جو شف ان کے اج کی طلب میں عباوت کے ل کھٹرارہا
اللہ اس کے ا گے تیج گناہ محا فکر دے گا۔ “لیکن آیت کے الفاظ یہ نیل می کہ العمل فی لیلة
قرر ےرس افسول کر ات ضو اش یئن ضضل کا ار ون شش شض کر ےت کن
ہے بللہ فرمایا گیا کہ شب قدر راد عپیٹوں سے ہر ے۔“ اور ہترار عمیٹوں سے م راو بھی گے
(8ے ےی - - 0ه
۰ت5 5هۃ5ۃ5ۃ 777 7111 0ٗصٗصٗٗس''ئ'پ ۷/۷
ہوۓ 83 سال ار مینے یں ہیں ءبلنہ اٹل عر بکا تاعدہ ت اک بڑک کش تد ادکا تھمور ولا نے کے لیے وہ
نرا رکا لفظا ہو لے تے۔ اس لیے آبی تکا مطلب بہ ےکلہ اس ایک رات میں خر اور ھلا یکا ا سناڈ اکام ہوا
کہ می انسانی جار کے فٍ ھ2 بھی ال اکام نہ ہو اتھا۔
سورڈالقدرحاشی تمبر: 3ھ
رو سے م راوج یل ہیں جن کے فضل وش ر فک نا پر ا نکا کر فرشتوں سے ان ککیاکیاے۔
سورڈالقدرحاشی تمبر: 4۹4ھ
نی وہ بطورخو یں آتے بللہ اپنے رب کے اع سے آتے ہیں۔ اور ہ ر عم سے مرادودی سے جے سورہ
دخا ن آیمت4 ئل آمر کیم (عیمانکام )کا نے
سورۃالقدرحاشیہ تمبر: 5ھ
ین ام سے کک د ہلپ ری رات ہی ترے ہر اور نے ا